دن بھر بیٹھے رہنا کمر درد، موٹاپے اور تھکاوٹ کی بڑی وجہ ہے۔ اسٹینڈنگ ڈیسک آپ کو بیٹھنے اور کھڑے ہونے کے درمیان بدلنے دیتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دن میں 2 سے 4 گھنٹے کھڑے ہو کر کام کرنا صحت کے لیے بہترین ہے۔ خریدنے سے پہلے یہ نکات ضرور پڑھیں۔
الیکٹرک بمقابلہ مینوئل
الیکٹرک ڈیسک بٹن دبانے سے اوپر نیچے ہوتا ہے، مینوئل میں ہینڈل گھمانا پڑتا ہے۔ الیکٹرک ڈیسک مہنگا ہے لیکن روزانہ استعمال میں یہی آرام دہ رہتا ہے۔ بجٹ کم ہو تو مینوئل بھی ٹھیک ہے۔
اونچائی کی رینج چیک کریں
ڈیسک آپ کے قد کے مطابق اتنا اونچا ہو کہ کہنیاں 90 ڈگری پر رہیں۔ خریدنے سے پہلے اپنی بیٹھنے اور کھڑے ہونے کی اونچائی ناپ لیں۔ میموری بٹن والا ماڈل بہت آسان ہوتا ہے۔
وزن کی گنجائش
مونٹر، لیپ ٹاپ اور دیگر سامان کا وزن ڈیسک برداشت کر سکے۔ کم از کم 70 کلو وزن اٹھانے والا ڈیسک لیں تاکہ ہلنے کا مسئلہ نہ ہو۔ ڈبل موٹر والے زیادہ مستحکم ہوتے ہیں۔
ٹیبل ٹاپ کا سائز
آپ کے سامان کے حساب سے چوڑائی چنیں — عام استعمال کے لیے 120 سینٹی میٹر کافی ہے۔ بہت چھوٹا ڈیسک بعد میں پچھتاوا بنتا ہے، جگہ ہو تو بڑا لیں۔
آہستہ آہستہ عادت بنائیں
پہلے دن سے پورا دن کھڑے نہ ہوں — ہر گھنٹے میں 15 سے 20 منٹ سے شروع کریں۔ اینٹی فیٹیگ میٹ بچھائیں، یہ پیروں کی تھکاوٹ آدھی کر دیتا ہے۔ جسم کو دو ہفتے دیں۔
صحیح کرسی بھی ضروری ہے
کھڑے ہونے کے وقفوں میں آرام دہ کرسی چاہیے جو کمر کو سہارا دے۔ اسٹینڈنگ ڈیسک کا مطلب پورا دن کھڑے رہنا نہیں، بیٹھنے اور کھڑے ہونے کا توازن ہے۔ کرسی کی اونچائی ڈیسک کے مطابق ایڈجسٹ ہونی چاہیے۔
کیبل مینجمنٹ نہ بھولیں
ڈیسک اوپر نیچے ہو تو لٹکتی تاریں الجھتی ہیں — کیبل ٹرے لگائیں۔ صاف ستھرا ورک اسپیس ذہنی سکون دیتا ہے اور کام میں توجہ بڑھاتا ہے۔ وائرلیس کی بورڈ اور ماؤس بھی مددگار رہتے ہیں۔