بجلی کے بڑھتے بل اور لوڈ شیڈنگ نے سولر کو 2026 میں ہر گھر کی ضرورت بنا دیا ہے — مگر درست سسٹم کا انتخاب حساب کتاب مانگتا ہے۔ یہ گائیڈ آپ کو ہوشیار فیصلہ کرنے میں مدد دے گا۔
لاگت کی تفصیل
سولر سسٹم کی لاگت تین حصوں میں بٹتی ہے: پینل، انورٹر اور بیٹریاں۔ پینل سب سے بڑا خرچ ہے مگر 25 سال چلتا ہے۔ انورٹر دل ہے سسٹم کا — اس پر کنجوسی نہ کریں۔ بیٹریاں رات کے بیک اپ کے لیے ہیں؛ بغیر بیٹری والا سسٹم سستا مگر لوڈ شیڈنگ میں بے کار ہے۔ انسٹالیشن اور وائرنگ کا خرچ بھی شامل کریں۔
پے بیک کا حساب
ماہانہ بجلی کے بل کو سسٹم کی لاگت سے تقسیم کریں — یہی آپ کا پے بیک عرصہ ہے۔ عام گھر میں سولر 3 سے 5 سال میں لاگت واپس کر دیتا ہے۔ بجلی کی قیمتیں بڑھیں تو پے بیک تیز ہوتا ہے۔ نیٹ میٹرنگ سے اضافی بجلی بیچ کر آمدن بھی ممکن ہے۔ حساب لکھ کر کریں — زبانی اندازے اکثر غلط ہوتے ہیں۔
چھت کی موزونیت
جنوب کی طرف رخ والی چھت سب سے بہترین ہے کیونکہ وہاں دھوپ زیادہ پڑتی ہے۔ دن میں کم از کم 5 سے 6 گھنٹے سیدھی دھوپ ضروری ہے۔ درختوں یا عمارتوں کا سایہ پیداوار گھٹاتا ہے — انسٹالر سے شیڈ تجزیہ کروائیں۔ چھت مضبوط ہونی چاہیے؛ پینل اور اسٹینڈ کا وزن برداشت کرنا ضروری ہے۔ مستقبل کی توسیع کے لیے جگہ چھوڑیں۔
انسٹالر سے پوچھنے والے سوال
پینل اور انورٹر کی وارنٹی کتنی ہے؟ — تحریری وارنٹی لیں۔ کیا کمپنی نیٹ میٹرنگ میں مدد کرے گی؟ انسٹالیشن کے بعد سروس کون دے گا؟ کم از کم تین کوٹیشن لیں اور صرف قیمت نہیں، سامان کا برانڈ بھی موازنہ کریں۔ بہت سستا آفر خطرے کی گھنٹی ہے — ناقص سامان جلد خراب ہوتا ہے۔
عملی مشورہ: اپنے ایک سال کے بجلی کے بلوں کا اوسط نکال کر انسٹالر کو دکھائیں — درست سسٹم کا سائز اسی سے طے ہوگا۔