ہر سال کروڑوں اکاؤنٹس اس لیے ہیک ہوتے ہیں کہ لوگ ایک ہی آسان پاس ورڈ ہر جگہ استعمال کرتے ہیں۔ ایک ویب سائٹ کا ڈیٹا لیک ہو تو ہیکر وہی پاس ورڈ آپ کے بینک اور ای میل پر آزماتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ 2026 میں پاس ورڈ محفوظ رکھنا پہلے سے کہیں آسان ہے — بس صحیح عادات اپنانی ہیں۔ یہ گائیڈ آپ کو قدم بہ قدم بتائے گا۔

ہر اکاؤنٹ کا پاس ورڈ منفرد ہو

یہ سنہری اصول ہے: دو ویب سائٹس پر کبھی ایک جیسا پاس ورڈ نہ رکھیں۔ ایک سائٹ ہیک ہو تو باقی سب محفوظ رہیں گے۔ پاس ورڈ لمبا اور بے ترتیب ہو — تین چار بے تعلق اردو یا انگریزی الفاظ ملا کر بنایا گیا "پاس فریز" یاد رکھنا آسان اور توڑنا مشکل ہوتا ہے۔ اپنا نام، تاریخ پیدائش یا "password123" جیسی چیزیں کبھی استعمال نہ کریں۔

پاس ورڈ مینیجر: آپ کا ڈیجیٹل خزانچی

سو منفرد پاس ورڈ یاد رکھنا ناممکن ہے — اسی لیے پاس ورڈ مینیجر ہے۔ Bitwarden جیسا مفت مینیجر آپ کے سارے پاس ورڈ خفیہ کر کے رکھتا ہے؛ آپ کو صرف ایک ماسٹر پاس ورڈ یاد رکھنا ہوتا ہے۔ یہ خودکار مضبوط پاس ورڈ بناتا ہے اور لاگ ان فارم خود بھرتا ہے۔ براؤزر میں پاس ورڈ محفوظ کرنا مینیجر جتنا محفوظ نہیں۔ آج ہی مینیجر انسٹال کریں — یہ واحد سب سے بڑا سیکیورٹی اپگریڈ ہے۔

ٹو فیکٹر تصدیق ہر اہم اکاؤنٹ پر

ٹو فیکٹر تصدیق (2FA) کا مطلب ہے کہ پاس ورڈ کے ساتھ دوسرا ثبوت بھی چاہیے — عام طور پر فون پر آنے والا کوڈ۔ ای میل، بینک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر 2FA ضرور آن کریں؛ یہ ہیکر کو پاس ورڈ ملنے کے باوجود روک دیتا ہے۔ SMS کوڈ سے بہتر authenticator ایپ ہے، کیونکہ SMS کو بھی ہیک کیا جا سکتا ہے۔ بیک اپ کوڈز کہیں محفوظ لکھ کر رکھیں۔

پاس کیز: پاس ورڈ کا مستقبل

2026 میں بڑی کمپنیاں "پاس کیز" کو فروغ دے رہی ہیں — یہ آپ کے فون یا کمپیوٹر میں محفوظ ڈیجیٹل چابی ہے، فشنگ سے محفوظ کیونکہ اسے نقل نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں پاس کی کا آپشن ملے اسے اپنائیں؛ یہ پاس ورڈ سے زیادہ محفوظ اور استعمال میں آسان ہے۔ آپ کے فنگر پرنٹ یا چہرے سے یہ چابی کھلتی ہے۔ آنے والے سالوں میں یہی معیار بنے گا۔

فشنگ: سب سے بڑا خطرہ آپ کی عادت ہے

زیادہ تر ہیکنگ تکنیکی نہیں، نفسیاتی ہوتی ہے — جعلی ای میل یا پیغام میں لنک پر کلک کروا کر پاس ورڈ چرایا جاتا ہے۔ اصول بنائیں: ای میل یا SMS کے لنک پر کلک کر کے کبھی لاگ ان نہ کریں؛ ہمیشہ خود ویب سائٹ کا پتہ لکھ کر جائیں۔ "آپ کا اکاؤنٹ بند ہو رہا ہے، فوراً کلک کریں" جیسے ڈراؤنے پیغامات ہمیشہ جعلی ہوتے ہیں۔ شک ہو تو بھیجنے والے سے الگ رابطہ کر کے تصدیق کریں۔