پاس ورڈز بھولنا، چوری ہونا اور بار بار تبدیل کرنا — یہ سب ماضی کی بات بننے والی ہے۔ پاس کیز (Passkeys) ایک نئی لاگ اِن ٹیکنالوجی ہے جس میں آپ اپنے فون کے فنگر پرنٹ یا چہرے کی شناخت سے لاگ اِن کرتے ہیں، کوئی پاس ورڈ یاد رکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کیسے کام کرتی ہے، جانیں۔

پاس کی اصل میں ہے کیا؟

آسان الفاظ میں: آپ کے ڈیوائس میں ایک خفیہ ڈیجیٹل "چابی" بنتی ہے جو صرف آپ کی بایومیٹرک (انگلی یا چہرہ) سے کھلتی ہے۔ ویب سائٹ کے پاس صرف تالے کا دوسرا حصہ ہوتا ہے۔ چونکہ کوئی پاس ورڈ سرور پر محفوظ ہی نہیں ہوتا، ہیکر اسے چُرا بھی نہیں سکتا — یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

پاس ورڈز سے بہتر کیوں ہے؟

فشنگ حملوں میں جعلی ویب سائٹ آپ کا پاس ورڈ چُرا لیتی ہے، لیکن پاس کی جعلی سائٹ پر کام ہی نہیں کرتی — وہ اصل سائٹ کو پہچانتی ہے۔ فشنگ، ڈیٹا لیک اور کمزور پاس ورڈز کے تینوں بڑے خطرات ایک ساتھ ختم، اور لاگ اِن بھی تیز: ایک ٹچ میں کام ہو جاتا ہے۔

پاس کی کیسے بنائیں؟

جن سائٹس پر سپورٹ ہو (گوگل، ایپل، مائیکروسافٹ اور بڑھتی ہوئی فہرست)، وہاں اکاؤنٹ سیٹنگز میں "Passkey بنائیں" کا آپشن ملے گا۔ اپنے فون کی اسکرین لاک (PIN، فنگر پرنٹ یا فیس) آن رکھیں — یہی آپ کی پاس کی کی حفاظت کرتی ہے۔ بنانے کے بعد اگلی بار لاگ اِن پر سائٹ خود پاس کی مانگے گی۔

فون بدلنے پر کیا ہوگا؟

یہ سب سے عام فکر ہے۔ اچھی خبر: گوگل اور ایپل کی پاس کیز آپ کے اکاؤنٹ کے ساتھ کلاؤڈ میں سنک ہوتی ہیں، نئے فون پر سائن اِن کرتے ہی واپس مل جاتی ہیں۔ پھر بھی اہم اکاؤنٹس کے لیے بیک اپ طریقہ (ریکوری ای میل یا فون نمبر) ضرور اپ ڈیٹ رکھیں۔

ابھی سب کچھ پاس کی پر نہ ڈالیں

ہر ویب سائٹ نے ابھی سپورٹ شامل نہیں کی، اس لیے منتقلی بتدریج کریں۔ پہلے گوگل اور ایپل جیسے بڑے اکاؤنٹس پر آزمائیں، پھر آہستہ آہستہ باقی۔ جہاں پاس کی نہ ہو وہاں مضبوط، منفرد پاس ورڈ اور ٹو فیکٹر تصدیق جاری رکھیں۔