پاسورڈ یاد رکھنا، بھول جانا اور بار بار ری سیٹ کرنا — یہ سب اب پرانی بات ہوتی جا رہی ہے۔ پاس کیز (Passkeys) لاگ اِن کا نیا، محفوظ اور آسان طریقہ ہے۔ آپ صرف اپنے فنگر پرنٹ، چہرے یا فون کے پن سے لاگ اِن کرتے ہیں — کوئی پاسورڈ ٹائپ نہیں کرنا پڑتا۔ 2026 میں بڑی ویب سائٹس اور ایپس تیزی سے اسے اپنا رہی ہیں۔

پاس کیز کیسے کام کرتی ہیں؟

جب آپ پاس کی بناتے ہیں تو آپ کے ڈیوائس میں ایک خفیہ ڈیجیٹل چابی محفوظ ہو جاتی ہے۔ لاگ اِن کے وقت ویب سائٹ ایک چیلنج بھیجتی ہے، آپ کا ڈیوائس اسے چابی سے حل کرتا ہے — پاسورڈ کہیں بھیجا ہی نہیں جاتا۔ اسی لیے فشنگ حملے بے اثر ہو جاتے ہیں: چور کے پاس چرانے کے لیے کوئی پاسورڈ ہوتا ہی نہیں۔ یہ ٹیکنالوجی پاسورڈ سے کہیں زیادہ محفوظ ہے۔

پاس کی کیسے بنائیں؟

طریقہ بہت آسان ہے۔ کسی ویب سائٹ پر اکاؤنٹ سیٹنگز میں "Create a passkey" یا "پاس کی بنائیں" کا آپشن ڈھونڈیں۔ آپ کا فون یا کمپیوٹر آپ سے فنگر پرنٹ یا چہرے کی تصدیق مانگے گا — بس اتنا ہی۔ پاس کی آپ کے گوگل یا ایپل اکاؤنٹ سے ہم آہنگ ہو جاتی ہے، اس لیے نیا فون لینے پر بھی وہ ساتھ آتی ہے۔ پہلے اپنی اہم اکاؤنٹس — ای میل اور بینک — پر بنائیں۔

کیا یہ واقعی محفوظ ہے؟

جی ہاں، اور یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ پاس کی کبھی سرور پر محفوظ نہیں ہوتی، اس لیے ویب سائٹ ہیک ہونے پر بھی آپ کی چابی محفوظ رہتی ہے۔ ہر ویب سائٹ کے لیے الگ چابی بنتی ہے، اس لیے ایک جگہ کا مسئلہ دوسری جگہ نہیں پھیلتا۔ فنگر پرنٹ یا چہرے کا ڈیٹا ڈیوائس سے باہر نہیں جاتا — تصدیق آپ کے فون کے اندر ہی ہوتی ہے۔

احتیاط اور عملی ٹپس

پاس کیز کو اپنے کلاؤڈ اکاؤنٹ (گوگل/ایپل) سے ہم آہنگ ضرور رکھیں، ورنہ فون گم ہونے پر مسئلہ ہو سکتا ہے۔ اپنے مرکزی اکاؤنٹ کا ریکوری طریقہ پہلے سے سیٹ کر لیں۔ کچھ پرانی ویب سائٹس ابھی پاس کیز سپورٹ نہیں کرتیں — وہاں مضبوط پاسورڈ جاری رکھیں۔ دونوں طریقے ساتھ چل سکتے ہیں، جلد بازی میں پرانا طریقہ بند نہ کریں۔

پاس کیز مستقبل نہیں، حال ہیں۔ اگلی بار جب کوئی ویب سائٹ پاس کی بنانے کی پیشکش کرے تو انکار نہ کریں — ایک بار بنائیں، ہمیشہ آسان اور محفوظ لاگ اِن پائیں۔ پاسورڈ کے دور کا خاتمہ قریب ہے۔