آپ کی آنتوں میں کھربوں مفید جراثیم رہتے ہیں جو ہاضمے کے ساتھ ساتھ قوتِ مدافعت اور موڈ پر بھی اثر ڈالتے ہیں۔ سائنسدان اسے "دوسرا دماغ" بھی کہتے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ چند آسان غذائی عادتوں سے آپ اپنی گٹ ہیلتھ نمایاں بہتر کر سکتے ہیں۔ بنیادی باتیں جانیں۔
فائبر: آپ کے مفید جراثیم کی خوراک
سبزیاں، دالیں، چنے، دلیہ اور پھل — ان میں موجود فائبر آنتوں کے اچھے بیکٹیریا کی غذا ہے۔ روزانہ مختلف رنگوں کی سبزیاں اور دالیں کھانے کی عادت بنائیں؛ جن لوگوں کی خوراک میں فائبر کم ہوتا ہے ان میں ہاضمے کے مسائل زیادہ دیکھے گئے ہیں۔
دہی اور خمیر شدہ غذائیں آزمائیں
دہی، لسی اور اچار جیسی خمیر شدہ (فرمنٹڈ) غذاؤں میں قدرتی پروبائیوٹکس ہوتے ہیں — یعنی زندہ مفید جراثیم۔ روزانہ ایک پیالہ سادہ دہی آنتوں کے لیے سب سے سستا اور آسان تحفہ ہے۔ میٹھے فلیورڈ دہی کے بجائے سادہ دہی بہتر ہے، کیونکہ اضافی چینی فائدہ کم کر دیتی ہے۔
پراسیسڈ خوراک اور چینی کم کریں
فاسٹ فوڈ، سوفٹ ڈرنکس اور بہت زیادہ میٹھی چیزوں سے آنتوں کے مفید جراثیم کمزور ہوتے ہیں۔ مکمل پرہیز مشکل ہے تو آہستہ آہستہ کم کریں — ہفتے میں ایک سوفٹ ڈرنک کم کرنا بھی ایک اچھی شروعات ہے۔ چھوٹی تبدیلیاں جمع ہو کر بڑا فرق بناتی ہیں۔
پانی، نیند اور چہل قدمی نہ بھولیں
گٹ ہیلتھ صرف کھانے سے نہیں بنتی۔ مناسب پانی، 7 سے 8 گھنٹے کی نیند اور روزانہ 20 سے 30 منٹ کی چہل قدمی ہاضمے کو قدرتی طور پر بہتر کرتی ہے۔ تناؤ (اسٹریس) بھی آنتوں کو متاثر کرتا ہے، اس لیے سکون کے لیے وقت نکالنا صحت کا حصہ ہے۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟
عام بدہضمی گھریلو عادتوں سے بہتر ہو جاتی ہے، لیکن اگر پیٹ میں مستقل درد، خون، اچانک وزن میں کمی یا لمبے عرصے کا قبض/دست ہو تو خود علاج نہ کریں — ڈاکٹر سے ملیں۔ یہ مضمون معلومات کے لیے ہے، طبی مشورے کا متبادل نہیں۔