گھنٹوں کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا آج کی عام زندگی ہے — اور کمر، گردن اور کندھوں کا درد اس کی عام قیمت۔ اچھی خبر یہ ہے کہ زیادہ تر کیسز میں درد کی وجہ غلط بیٹھنے کا انداز ہے، کوئی بڑی بیماری نہیں۔ چند سادہ تبدیلیوں سے آپ ہفتوں میں فرق محسوس کر سکتے ہیں۔
کرسی اور میز کی صحیح ترتیب
کرسی اتنی اونچی ہو کہ پاؤں زمین پر ٹکے رہیں اور گھٹنے نوے درجے کے زاویے پر ہوں۔ اسکرین کی اونچائی آنکھوں کے برابر ہونی چاہیے تاکہ گردن نہ جھکے — لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں تو اسے کتابوں پر رکھ کر اونچا کریں۔ کمر کے نچلے حصے کو کرسی کی پشت کا سہارا ملنا چاہیے؛ ضرورت ہو تو چھوٹا تکیہ رکھیں۔
درست بیٹھنے کا طریقہ
سیدھا بیٹھیں مگر اکڑ کر نہیں — کندھے ڈھیلے، کہنیاں جسم کے قریب۔ آگے جھک کر اسکرین میں گھسنا سب سے بڑی غلطی ہے؛ کرسی کو میز کے قریب کریں۔ موبائل دیکھتے وقت اسے اوپر اٹھا کر آنکھوں کے سامنے لائیں، گردن نیچے نہ جھکائیں۔ ہر آدھے گھنٹے بعد اپنی پوزیشن چیک کرنے کی عادت ڈالیں۔
کام کے دوران سادہ ورزشیں
لمبے وقت تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنا جسم کا دشمن ہے۔ ہر گھنٹے پانچ منٹ اٹھ کر چلیں یا کھڑے ہوں۔ کرسی پر بیٹھے بیٹھے کندھے گھمائیں، گردن دائیں بائیں موڑیں، اور کمر کو آگے پیچھے ہلکا سا کھینچیں۔ یہ چھوٹی حرکتیں خون کی روانی بہتر کرتی ہیں اور پٹھوں کی اکڑن ختم کرتی ہیں۔
روزمرہ کی صحت مند عادتیں
روزانہ تیس منٹ چہل قدمی کمر کے پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے۔ بھاری وزن اٹھاتے وقت گھٹنے موڑیں، کمر سیدھی رکھیں۔ نرم گدے کے بجائے درمیانے سخت بستر پر سوئیں — یہ کمر کے لیے بہتر ہے۔ پانی زیادہ پئیں کیونکہ پانی کی کمی بھی پٹھوں میں درد بڑھاتی ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر درد دو ہفتے سے زیادہ رہے، ٹانگوں میں سنسناہٹ یا کمزوری ہو، یا درد رات کو سونے نہ دے تو تاخیر نہ کریں، ڈاکٹر سے ملیں۔ یہ علامات کسی سنگین مسئلے کی نشاندہی کر سکتی ہیں۔ عام درد کے لیے یہ مضمون کافی ہے، مگر اپنی صحت کے معاملے میں احتیاط ہمیشہ بہتر ہے۔