آنکھوں میں جلن، خشک آنکھیں، دھندلا نظر آنا اور سر درد — اگر آپ روزانہ گھنٹوں موبائل یا کمپیوٹر استعمال کرتے ہیں تو یہ علامات آپ کو بھی محسوس ہوتی ہوں گی۔ اسے ڈیجیٹل آئی اسٹرین کہتے ہیں، اور 2026 میں یہ دفتر کے ملازمین اور طلبہ کا سب سے عام مسئلہ ہے۔ خوش قسمتی سے چند آسان عادتوں سے اس سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔
20-20-20 کا سنہرا قاعدہ
آنکھوں کے ڈاکٹروں کا سب سے مشہور مشورہ: ہر 20 منٹ بعد، 20 فٹ (6 میٹر) دور کسی چیز کو 20 سیکنڈ تک دیکھیں۔ اس سے آنکھوں کے وہ پٹھے آرام پاتے ہیں جو قریب دیکھنے میں مسلسل تنے رہتے ہیں۔ موبائل میں ہر 20 منٹ کا الارم لگائیں — پہلے ہفتے میں ہی فرق محسوس ہوگا۔ دور دیکھتے وقت کھڑکی سے باہر درخت یا آسمان دیکھنا بہترین ہے۔
اسکرین کی درست ترتیب
- فاصلہ رکھیں۔ موبائل آنکھوں سے کم از کم ایک ہاتھ دور، اور کمپیوٹر اسکرین بازو کی لمبائی پر ہو۔
- اسکرین آنکھوں سے تھوڑی نیچی ہو۔ اوپر دیکھنے سے آنکھیں زیادہ کھلتی ہیں اور جلدی خشک ہوتی ہیں۔
- روشنائی ماحول کے مطابق رکھیں۔ اندھیرے کمرے میں تیز اسکرین آنکھوں پر بوجھ ڈالتی ہے — آٹو برائٹنس آن رکھیں۔
- فونٹ کا سائز بڑھائیں۔ چھوٹے حروف پڑھنے کے لیے آنکھوں پر دباؤ بڑھتا ہے۔
پلکیں جھپکنا اور نمی
اسکرین دیکھتے وقت ہم آدھی بار بھی پلکیں نہیں جھپکتے — یہی خشک آنکھوں کی اصل وجہ ہے۔ شعوری طور پر بار بار پلکیں جھپکنے کی عادت ڈالیں۔ کمرے میں پنکھا یا اے سی براہ راست چہرے پر نہ چلائیں۔ اگر آنکھیں بہت خشک ہوں تو ڈاکٹر کے مشورے سے مصنوعی آنسو (artificial tears) کے قطرے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
رات کو اسکرین اور نیند
- سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین بند کر دیں۔ نیلی روشنی نیند کے ہارمون کو روکتی ہے۔
- نائٹ موڈ استعمال کریں۔ شام کے بعد فون اور کمپیوٹر کا نائٹ/ڈارک موڈ آن رکھیں۔
- آنکھوں کی ہلکی ورزش کریں۔ آنکھیں بند کر کے دائیں بائیں گھمائیں اور ہتھیلیوں کی گرمی سے ڈھانپیں — دن میں 2 بار۔
اگر ان تدابیر کے باوجود دھندلا نظر آنا یا سر درد جاری رہے تو آنکھوں کا معائنہ ضرور کروائیں — ہو سکتا ہے آپ کو چشمے کی ضرورت ہو۔ آنکھیں آپ کی سب سے قیمتی دولت ہیں؛ ان کی حفاظت میں کوتاہی نہ کریں۔