سائبر حملے اب صرف بڑی کمپنیوں کا مسئلہ نہیں؛ عام صارفین روزانہ نشانہ بنتے ہیں۔ خوش قسمتی سے تحفظ کے لیے ماہر بننے کی ضرورت نہیں۔ اس گائیڈ کی 6 بنیادی احتیاطی تدابیر حملوں کی اکثریت کو روکنے کے لیے کافی ہیں۔

ہر اکاؤنٹ کے لیے منفرد اور مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں

ایک ہی پاس ورڈ کئی سائٹس پر استعمال کرنا سب سے عام غلطی ہے: ایک سائٹ ہیک ہو تو تمام اکاؤنٹ خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ کم از کم 12 حروف کے مضبوط پاس ورڈ استعمال کریں۔ پاس ورڈ مینیجر درجنوں مضبوط پاس ورڈ یاد رکھنے کی پریشانی ختم کر دیتا ہے۔

ہر جگہ دو مرحلہ تصدیق آن کریں

پاس ورڈ چوری ہو جائے تو بھی تصدیق کا دوسرا مرحلہ اکاؤنٹ کی حفاظت کرتا ہے۔ ای میل، بینک اور سوشل میڈیا میں دو مرحلہ تصدیق ضرور آن کریں۔ یہ ایک سیٹنگ اکاؤنٹ ہیکنگ کے زیادہ تر حملوں کو ناکام بنا دیتی ہے۔

فشنگ ای میلز سے ہوشیار رہیں

حملہ آور بینک بن کر "آپ کا اکاؤنٹ معطل کر دیا گیا" جیسے خوف والے پیغامات بھیجتے ہیں۔ لنک پر کلک سے پہلے بھیجنے والے کا پتہ غور سے چیک کریں۔ اصل ادارے آپ سے ای میل کے ذریعے پاس ورڈ نہیں مانگتے؛ مانگنے والا ہر پیغام مشکوک ہے۔

سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھیں

فون اور ایپ کی اپ ڈیٹس سیکیورٹی خامیوں کو بند کرتی ہیں۔ آٹو اپ ڈیٹ آن رکھیں۔ اپ ڈیٹ نہ کیا گیا ڈیوائس ٹوٹے تالے والے دروازے جیسا ہے۔

باقاعدہ بیک اپ لیں

رینسم ویئر آپ کی فائلیں انکرپٹ کر کے پیسے مانگتا ہے؛ باقاعدہ بیک اپ ہو تو یہ خطرہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ تصاویر اور اہم دستاویزات کو خودکار کلاؤڈ بیک اپ سے محفوظ کریں۔ بیک اپ لینے کا بہترین وقت کل تھا، دوسرا بہترین وقت آج ہے۔

عوامی وائی فائی پر احتیاط کریں

کیفے اور ایئرپورٹ کے وائی فائی حملہ آوروں کے لیے شکار گاہ ہیں۔ عوامی نیٹ ورک پر بینکنگ نہ کریں۔ مجبوری ہو تو وی پی این استعمال کریں؛ مفت وی پی این کے بجائے قابل اعتماد سروس کو ترجیح دیں۔