فون گم، لیپ ٹاپ خراب، یا وائرس کا حملہ — ایک لمحے میں برسوں کی یادیں اور اہم دستاویزات غائب ہو سکتی ہیں۔ ڈیٹا ماہرین کا سنہری اصول 3-2-1 اسی نقصان سے بچاتا ہے، اور اسے اپنانا حیران کن حد تک آسان ہے۔ یہ اصول سمجھ لیں تو آپ کا ڈیٹا عملی طور پر ناقابلِ تباہی ہو جاتا ہے۔

3-2-1 کا مطلب کیا ہے؟

3 کا مطلب آپ کے ڈیٹا کی تین کاپیاں — اصل فائل اور دو بیک اپ۔ 2 کا مطلب دو مختلف قسم کے اسٹوریج — مثلاً کمپیوٹر کی ہارڈ ڈرائیو اور ایکسٹرنل ڈرائیو۔ 1 کا مطلب ایک کاپی مختلف جگہ پر — جیسے کلاؤڈ یا کسی اور گھر میں رکھی ڈرائیو۔ ایک ہی جگہ کی ساری کاپیاں، کوئی کاپی نہ ہونے کے برابر ہیں۔

پہلی کاپی: آپ کا آلہ

یہ وہ فائلیں ہیں جو آپ روز استعمال کرتے ہیں — فون، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر پر۔ یہ 'اصل' کاپی ہے لیکن سب سے زیادہ خطرے میں بھی یہی ہے، اسی لیے باقی دو کاپیاں ضروری ہیں۔ اصل ڈیوائس کو کبھی واحد کاپی نہ سمجھیں۔

دوسری کاپی: مقامی بیک اپ

ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیو یا USB ڈرائیو پر باقاعدہ بیک اپ لیں — ہفتہ وار خودکار بیک اپ بہترین ہے۔ یہ تیز بحالی دیتا ہے اور انٹرنیٹ کے بغیر بھی کام آتا ہے۔ خودکار بیک اپ لگائیں تاکہ بھولنے کا خطرہ ہی نہ رہے۔

تیسری کاپی: کلاؤڈ یا دور دراز مقام

کلاؤڈ اسٹوریج (گوگل ڈرائیو، ون ڈرائیو وغیرہ) آپ کی فائلوں کو گھر سے دور محفوظ رکھتا ہے — آگ، چوری یا سیلاب میں بھی ڈیٹا سلامت رہتا ہے۔ مفت پلان اکثر بنیادی ضرورت کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ آف سائٹ کاپی ہی وہ ہے جو بڑی آفات میں آپ کا ڈیٹا بچاتی ہے۔

بیک اپ کی جانچ نہ بھولیں

بیک اپ لے کر بھول جانا عام غلطی ہے — ہر چند ماہ بعد چیک کریں کہ فائلیں واقعی بحال ہوتی ہیں۔ خراب بیک اپ کا پتہ ضرورت کے وقت چلنا بہت دیر ہوتی ہے۔ سال میں دو بار ایک فائل بحال کر کے ٹیسٹ کریں — یہ پانچ منٹ کا کام ہے۔